جمعرات 9 جولائی 2026 - 18:07
آیت اللہ اعرافی کا عراق میں رہبرِ شہید کے جنازے میں عوام کی بھرپور شرکت پر خراجِ تحسین

حوزہ/ عراق کے شہر نجف و کربلا میں رہبرِ شہید اور قائدِ امت آیت اللہ العظمی خامنہ ایؒ کی تشییع جنازہ میں جو عظیم منظر دیکھنے میں آیا، وہ عراقی عوام کے ایمان، اخلاص، قربانی اور ایثار کا واضح ثبوت تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں رہبرِ شہید کی تاریخی تشییع جنازہ پر آیت اللہ علی رضا اعرافی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مِّنَ ٱلمُؤمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُواْ مَا عَاهَدُواْ ٱللَّهَ عَلَیهِ فَمِنهُم مَّن قَضَىٰ نَحبَهُۥ وَمِنهُم مَّن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُواْ تَبدِیلًا۔

السلام علی الحسین، وعلی علی بن الحسین، وعلی اولاد الحسین، وعلی اصحاب الحسین علیہم السلام

عراق کے شہر نجف و کربلا میں رہبرِ شہید اور قائدِ امت امام خامنہ ایؒ کی تشییع جنازہ میں جو عظیم منظر دیکھنے میں آیا، وہ عراقی عوام کے ایمان، اخلاص، قربانی اور ایثار کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

عراق کے عزیز عوام، معزز قبائل، مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین و حضرات، مجاہد نوجوان، علماء، یونیورسٹیوں سے وابستہ افراد، عراق، لبنان اور دیگر ممالک کے محورِ مقاومت کے گروہوں، مختلف سماجی اور سیاسی جماعتوں، نیز عراق کی حکومت، عوام، نجف و کربلا کے مقدس روضوں اور خاص طور پر الحشد الشعبی کے تعاون نے ایران اور عراق کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کو نمایاں کیا۔

یہ عظیم اور بے مثال واقعہ اسلامی امت کے اتحاد کی علامت ہے، جو الٰہی اہداف، استکباری طاقتوں سے آزادی، امریکی تسلط سے نجات اور اسلامی سرزمینوں خصوصاً فلسطین کو امریکہ اور غاصب صہیونیوں کے وجود سے آزاد کرانے کے مقصد کے گرد جمع ہے۔

یہ نورانی تقریب حضرت امیرالمؤمنین امام علیؑ، حضرت امام حسینؑ، حضرت ابوالفضل العباسؑ، دیگر ائمہ معصومینؑ کے مقدس روضوں اور عراق کے بزرگ علماء و شہداء کے مزارات کے تعاون سے منعقد ہوئی۔ یہ تقریب اسلام، ایران، عراق اور محورِ مقاومت کے دشمنوں کی بہت سی سازشوں کو ناکام بنانے والی اور اسلامی بیداری، امتِ مسلمہ کی عالمی تحریک، اسلامی اور خودمختار نظام کے قیام، نیز استعمار اور استکبار سے نجات کے لیے نئے حالات پیدا کرنے والی ثابت ہوگی۔ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ کی مدد اور حضرت ولی عصرؑ کی عنایت سے اس کے اثرات دیرپا اور مستحکم ہوں گے۔

اس عظیم نعمت اور عراق، محاذ مقاومت اور خطے کی اقوام کی اس عظیم بیداری پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ میں عراقی عوام، حکومت، ذمہ داران، محورِ مقاومت، خطے کی اقوام، اس عظیم تقریب میں شریک تمام طبقات اور گروہوں، اور ایامِ عزائے امام حسینؑ اور ایام شہادت امام سجادؑ میں اس عظیم تشییع جنازہ کے انعقاد میں شریک تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

میں خاص طور پر عتبات عالیات کے ذمہ داران، بزرگ علماء، حوزہ علمیہ نجف اشرف کے اساتذہ، ایرانی، عراقی اور دیگر ممالک کے طلبہ و فضلاء، حوزہ علمیہ قم کے علماء، جامعہ مدرسین، شورایٰ عالی حوزہ ہائے علمیہ، اعلیٰ حوزوی اداروں اور بالخصوص نجف اشرف کے مرجع اعلیٰ کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

امید ہے کہ نجف اشرف اور قم المقدسہ کے مراجع کی رہنمائی میں نجف اور قم کے تاریخی حوزوں کے تعلقات، مسلم اقوام، محورِ مقاومت اور ایران و عراق کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے، اسلامی تہذیبِ نو کی تشکیل کی طرف پیش رفت تیز ہوگی اور حضرت حجتؑ کے ظہور کی راہ ہموار ہوگی۔ اسی طرح اربعینِ حسینی کے دوران دونوں ممالک کی باہمی محبت، تعاون اور دشمن کے مقابلے میں اتحاد ایک نئے تاریخی باب کا آغاز کرے گا۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ولی فقیہ اور رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، مسلم اقوام، ایران و عراق کی ملتوں اور محاذ مقاومت کی قربانیوں کی برکت سے شیطانی طاقتوں کا زوال اور اسلام کی طاقت کا عروج دیکھنے کو ملے گا، اور ایران، عراق اور پوری دنیا میں امتِ مسلمہ کامیابی حاصل کرے گی۔ ہم سب حوزہ ہائے علمیہ اور مسلم اقوام، اولیائے الٰہی، عظیم شہداء، علمائے دین، مراجعِ عظام، امام خمینیؒ، رہبرِ شہید امام خامنہ ایؒ اور رہبرِ معظم انقلاب سے کیے گئے اپنے عہد پر ثابت قدم رہیں گے۔

علیرضا اعرافی

سربراہ حوزات علمیہ ایران

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha